Tranding

قوموں کی ترقی اور عروج کا رازعلم میں پنہان ہے ۔مفتی شمس الدین مکرانہ

جلسۂ جشنِ دستارِ حفظ سے علماء کا خطاب 

.......... محمد غلام سرور.....

جموئی، بہار 

۔ مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ آزاد نگر جموئی میں سنیچر کی شب ایک نہایت ہی روح پرور، علمی اور باوقار تقریب بعنوان جلسۂ جشنِ دستارِ حفظ منعقد ہوئی۔ اس پروگرام میں علمائے کرام، مشائخِ عظام، حفاظِ کرام، نعت خواں حضرات اور عوام الناس کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے تقریب کو کامیاب بنایا۔

اس پروگرام کی نگرانی قائدِ ملت حضرت مولانا ضیاءالرسول غفاری صاحب، جنرل سکریٹری سنی علماء بورڈ شاخ مرکزی ادارۂ شرعیہ پٹنہ، بہار نے فرمائی، جبکہ صدارت صوفی سید عقیل فردوسی صاحب نے کی۔ نقابت کے فرائض حافظ کمال الدین فیضی رضوی نے انجام دیا۔ ملک کے مختلف گوشوں سے تشریف لائے ہوئے مشاہیر علماء و خطباء نے اپنی علمی و فکری گفتگو سے سامعین کے دلوں کو منور کیا۔

پروگرام کی ایک خاص دلکشی معروف نعت خواںِ رسول جناب دلبر شاہی کی پرسوز اور دلنشیں نعت خوانی تھی، جس نے سامعین کو عشقِ رسول ﷺ کی کیف آور فضا میں پہنچا دیا۔ حاضرین نے ان کی مترنم آواز اور عقیدت بھرے کلام سے بھرپور لطف حاصل کیا۔ فرید مدھوپوری ،فروز انجم مدھوپوری کی بھی اچھی نعت خوانی ہوئ

مصلحِ قوم و ملت حضرت علامہ مفتی شمس الدین مکرانہ نے اپنے خطاب میں علم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ قوموں کی ترقی اور عروج کا راز علم میں پوشیدہ ہے۔ آپ نے کہا کہ اسلام نے سب سے پہلے علم کی دعوت دی، اسی لئے پہلی وحی “اقرأ باسم ربك الذي خلق” نازل ہوئی۔ مگر افسوس کہ آج مسلمان علم سے دور ہوتے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں زوال اور پسماندگی ہمارا مقدر بنتی جا رہی ہے۔ آپ نے حاضرین کو فکر و تدبر کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے حالات کا جائزہ لینا ہوگا اور نئی نسل کو دینی و عصری علوم سے آراستہ کرنا ہوگا۔

حضرت مولانا ضیاءالرسول غفاری صاحب نے اپنے خطاب میں مدارسِ اسلامیہ کی تاریخی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ملکِ عزیز بھارت کی آزادی میں مدارسِ اسلامیہ کا نہایت اہم کردار رہا ہے۔ یہی وہ مراکزِ علم تھے جہاں انگریزوں کے خلاف تحریکیں چلائی گئیں، مجاہدینِ آزادی تیار ہوئے اور فتوئ جہاد جاری کئے گئے۔ آپ نے کہا کہ آج بھی مدارس اسلامیہ خاموشی کے ساتھ ملت کی خدمت انجام دے رہے ہیں، جہاں غریب اور مالی اعتبار سے کمزور بچوں کو نہ صرف مفت تعلیم دی جاتی ہے بلکہ ان کی کفالت اور تربیت کا بھی مکمل انتظام کیا جاتا ہے۔

اس جلسۂ دستارِ حفظ میں 13 خوش نصیب بچوں کے سروں پر علمائے کرام و مشائخِ عظام کے مبارک ہاتھوں سے دستار باندھی گئی۔ یہ منظر نہایت ایمان افروز اور روحانی تھا، جسے دیکھ کر حاضرین کی آنکھیں خوشی و مسرت سے نم ہوگئیں۔

 صلاۃ و سلام اور رقت آمیز دعا کے ساتھ یہ محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔

 آخر میں حافظ غلام مصطفی صاحب نے آۓ ہوۓ تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا 

اس موقع پر مولانا اسلم عبید صاحب حافظ انور صاحب حافظ داؤد صاحب حافظ اسد صاحب ذوالفقار صاحب معین صاحب کے ساتھ شہر جموئ کے دیگر کئ ذمہ دار دانشور اور سماجی خدمت گار ، معزز حضرات موجود رہے

Jr. Seraj Ahmad Quraishi
1

Leave a comment

Most Read

Advertisement

Newsletter

Subscribe to get our latest News
Follow Us
Flickr Photos

© Copyright All rights reserved by India Khabar 2026